جکارتا،13؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) انڈونیشیا کے شہر سورابایا کے 3 گرجا گھروں میں خودکش حملوں میں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے شہرسورابایا میں تین گرجا گھروں کو نشانہ بنانے والے خودکش حملہ آور ایک ہی خاندان کے افراد ہیں۔ حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
انڈونیشین پولیس حکام کا کہنا ہے گرجا گھروں پردھماکے منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے اور تینوں دھماکوں میں 10 منٹ کا وقفہ تھا۔ حملہ کرنے والوں میں ایک ہی خاندان ملوث ہے، حملہ خاتون نے اپنے دو بچوں کے ہمراہ خود کو چرچ کے اندر دھماکے سے اڑیا تھا جبکہ والد اور تین بیٹوں نے باقی جہگوں پردھماکے کیے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں چرچ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔
پولیس حکام کا خیال ہے کہ اتوار کی صبح چرچ میں ہونے والے خودکش دھماکے رواں ماہ پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے پانچ دہشت گردوں کی موت کا رد عمل ہے۔
ایسٹ جاوا پولیس کے ترجمان فرانس برنگ منگیرا کا کہنا ہے کہ تینوں حملوں میں مجموعی طور پر40 سے زائد افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
انڈونیشین پولیس کا کہنا تھا کہ پہلا حملہ سینٹا ماریا کتتھولک چرچ میں صبح ساڑھے 7 بجے ہوا تھا جس میں حملہ آوروں نے موٹر سائیکل کا استعمال کیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ واقعے کے عینی شاہدین نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ چرچ میـں ہونے والے تیسرے حملے کے وقت ایک سے زیادہ برقعہ پوش خواتین بچوں کے ساتھ چرچ میں داخل ہوئیں اور دھماکہ ہوگیا۔
پولیس کا کہنا تھا دہشت گردوں نے تیسرا دھماکہ چرچ کی موٹر سائیکل پارکنگ میں کیا تھا جس کے نتیجے میں پارکنگ میں کھڑی ہوئی درجنوں موٹرسائیکلیں جل کر تباہ ہوگئیں۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مسیحی برادری کی دیگر عبادت گاہوں پر ہونے والے حملے ناکام بنادیئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انڈونیشین پولیس نے بتایا کہ تاحال خودکش حملوں کی ذمہ داری کسی بھی دہشت گرد گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔